ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کارکلا : پولیس کے ذریعے کانگریس کارکن کی پٹائی کا معاملہ ۔ اڈپی ایس پی نے دیا تحقیقات کا حکم

کارکلا : پولیس کے ذریعے کانگریس کارکن کی پٹائی کا معاملہ ۔ اڈپی ایس پی نے دیا تحقیقات کا حکم

Sat, 10 Jul 2021 00:02:51    S.O. News Service

کارکلا،9؍جولائی (ایس او نیوز) فیس بک  پر فوج کے خلاف ہتک آمیز پوسٹ کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کے لئے پولیس اسٹیشن پہنچنے والے کانگریسی کارکن رادھا کرشنا کی مبینہ پٹائی کے تعلق سے اڈپی  ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ نے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے ۔
    
8 جولائی کو سوشیل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں رادھا کرشنا منی پال کے ہاسپٹل میں اسٹریچر پر لیٹا ہوا تھا اور بتایا تھا کہ مبینہ طور پر کارکلا پولیس سب انسپکٹَر مدھو نے پوچھ تاچھ کے دوران اس کو مارا پیٹا ہے جس کی وجہ سے اس کی طبیعت بگڑ گئی ۔ اس کے بعد کانگریسی کارکنان نے پولیس کے خلاف احتجاج کرنے کی دھمکی دی تھی اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
    
بتایا جاتا ہے کہ رادھا کرشنا کے نام سے فیس بک پر فوج کے خلاف ستمبر 2020 میں ہتک آمیز مسیج پوسٹ ہوا تھا، جس کے تعلق سے رادھا کرشنا نے بنگلورو کے ایک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرواتے ہوئے کہا تھا  کہ کسی نے فیک آئی ڈی بنا کر اس کے نام سے ایسا مسیج پوسٹ کیا ہے ۔ جبکہ کارکلا پولیس اسٹیشن میں بی جے پی کارکنان نے رادھا کرشنا کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسی سے متعلق پوچھ تاچھ  کے لئے طلب کرنے پر کل 8 جولائی کو جب وہ کارکلا پولیس اسٹیشن پہنچا تو مبینہ طور پر شکایت کنندہ کے سامنے سب انسپکٹر نے اس کو لاتوں اور گھونسوں سے مارا پیٹا۔ پتہ چلا ہے کہ  چند دن پہلے ہی رادھا کرشنا کے دل کا آپریشن ہوا تھا اور اب اس مار پیٹ کے بعد اس کی طبیعت مزید خراب ہوگئی ہے۔
    
سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئے پیغامات کا نوٹس لیتے ہوئے اڈپی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشنو وردھن نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔ ایس پی نے بتایا :" یہ تقریباً ایک سال پرانی شکایت پر پوچھ تاچھ  کا معاملہ ہے۔ رادھا کرشنا کو اس سے قبل کئی مرتبہ نوٹس بھیج کر تحقیقات کے لئے پولیس اسٹیشن آنے کے لئے کہا گیا تھا، لیکن وہ گزشتہ 11 مہینوں سے پوچھ تاچھ کے لئے حاضر نہیں ہورہا تھا۔ کل جب وہ پولیس اسٹیشن آیا تھا تو سب انسپکٹر نے پوچھ تاچھ کے بعد اس سے کہا تھا کہ فیس بک پوسٹ جعلی ہونے کے تعلق سے دستاویزی ثبوت پیش کرے ۔ میں نے  کنداپور ڈی وائی ایس پی سریکانت  کو اور دو دن کے اندر اس تعلق سے رپورٹ داخل کرنے کو کہا ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد جو باتیں سامنے آئیں گی اس کے مطابق اگلا اقدام کیا جائے گا۔"


Share: